11 نومبر 2011 - 20:30

حزب اللہ کےسیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے یوم شہید کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے لبنان کی اسلامی مزاحمت کو خراج تحسین و عقیدت پیش کیا/ ہر قسم کی جارحیت کا دندان شکن جواب دیں گے / صہیونی ریاست جنگ شروع نہیں کرسکتی / آج لبنانی حکومت شارٹ میسجز کا انتظار نہیں کیا کرتی / حریری ٹربیونل ناقابل قبول ہے / رہبر کا جواب دندان شکن تھا/ حملہ ہوا تو مشرق وسطی میدان جنگ ہوگا /امریکہ عراق میں اپنی شکست چھپانا چاہتا ہے/ امریکہ شکست کا بدلہ ایران اور شام سے لینے کے درپے/ تبدیلیاں مزاحمت کو تقویت پہنچارہی ہیں / شکست اور پسپائی کا زمانہ گذر چکا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے 11 نومبر بمناسبت یوم شہید، اس روز کے حوالے سے منعقدہ تقریبات سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے لبنانی شہداء کی تکریم کے لئے سال میں ایک خاص دن کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 11 نومبر وہ دن ہے جب شہید احمد قصیر نے صور شہر میں صہیونیوں پر پہلا استشہادی حملہ کیا تھا اور اس حملے میں دسیوں سینئر صہیونی فوجی افسروں سمیت 140 صہیونی فی النار ہوئے تھے اور یہ وہ دن ہے جس کو پورے لبنان میں منانا ضروری ہے۔ انھوں نے العالم ٹی وی چینل سے براہ راست نشر ہونے والے خطاب میں مزاحمت تحریک میں شامل جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ لبنان کی تقویم میں ایک روز شہداء کے لئے مختص کیا جائے تا کہ تمام لبنانی عوام اپنے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کریں۔انھوں نے روز شہید کے حوالے سے کہا: اس روز ہم حزب اللہ کے شہید کمانڈروں، مجاہدوں اور استشہادی کاروائیاں کرکے شہید ہونے والوں، شہادت پانے والے مردوں، خواتین، بچوں اور معمر افراد کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے ہیں خاص طور پر ان شہادت طلب مجاہدین کو جن کے لئے نمونہ عمل شہید احمد قصیر تھے۔انھوں نے کہا: حزب اللہ کے شہداء ہر طبقے سے ہیں جو اس راہ پر ایمان لائے تھے اور اپنی ملت کے لئے فکرمند تھے اور اسی راہ میں جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یوم شہید ہمیں شہید احمد قصیر کی استشہادی کاروائی کی یاد دلاتا ہے جنھوں نےصور شہر میں صہیونیوں کے ایک مرکز پر حملہ کیا اور خود بھی شہید ہوگئے لیکن 140 صہیونیوں کو بھی فی النار کردیا جن میں صہیونی ریاست کے اعترافات کے مطابق دسیوں سینئر افسر بھی شامل تھے اور یہ کاروائی مزاحمت کی تاریخ میں بے مثل اور سب سے پہلی استشہادی کاروائی تھی جو بعد کی کاروائیوں کے لئے نمونہ عمل بن گئی۔ یہ کاروائی کسی بھی کاروائی کے ساتھ قابل قیاس نہیں ہے حتی کہ عرب اسرائیل جنگ کی تاریخ میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ کاروائی بارود سے بھری ایک گاڑی کے ذریعے کی گئی اور ایک لمحے میں مکمل ہونے والی اس کاروائی میں جتنا نقصان صہیونی دشمن کو ملا اس کی کسی بھی کاروائی میں مثال نہیں ہے۔ انھوں نے شہید احمد قصیر کی یہ کاروائی "بانی کاروائي" قرار دی اور کہا کہ شہید احمد قصیر کی کاروائی "شہادت طلب مجاہدین" کے دور کا آغاز تھی۔

انھو ں نے کہا: قابض و جارح دشمن کے خلاف جدوجہد کے آغاز میں پوری دنیا اسرائیل کے ساتھ تھی اور ہم سب ناراض اور تھے اور ہمارے حوصلے بلند نہ تھے لیکن مزاحمت تحریک کے مجاہدین دشمن کے حامیوں کی کثرت اور جارح صہیونیوں سے امیدیں باندھنے والوں سے خوفزدہ نہیں ہوئے اور دشمن کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔سید حسن نصر اللہ نے کہا: جولائی 2006 کی جنگ میں لبنان کی کامیابی کے لئے نہ کوئی ہتھیار اور فوجی حکمت عملی کا کوئی وجود تھا اور نہ ہی فوجی کمانڈ اور دیگر وسائل تھے لیکن مزاحمت تحریک دشمن سے نہ ڈرنے والے اور میدان جنگ سے نہ بھاگنے والے مجاہدین کی برکت سے اس جنگ میں کامیاب ہوگئی۔ ہم صہیونی ریاست کی تاسیس سے لے کر آج تک، پہلی بار مکمل امن و سکون میں جی رہے ہیں۔

لبنان کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کا دندان شکن جواب دیں گےلبنان آج مزاحمت تحریک، دانا و بہادر قوم اور فوج کے سائے میں علاقائی معاملات میں فیصلہ کن طاقت میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: چند روز قبل امل تحریک کے ایک اجلاس میں امام موسی صدر کا کلام پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے لبنان اور اس ملک کے جنوبی علاقوں کی صورت حال کے بارے میں غم و حزن کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ لبنان اور جنوب لبنان کمزور ہے کیونکہ دشمن جو چاہے انجام دیتا ہے اور بہت سوں کو معلوم تک نہیں ہے کہ جنوب لبنان میں کیا ہورہا ہے۔ میں نے امام موسی صدر کی باتیں پڑھ کر دل ہی دل میں کہا: جب امام موسی صدر لبنان لوٹ کر آئیں گے اس ملک کے فرزندوں اور اپنے پروردہ مزاحمت کی فورسز پر فخر کریں گے اور دیکھیں گے کہ لبنان اب کمزور نہيں ہے اور علاقائی معاملات میں ایک طاقت کی حیثیت سے کردار ادا کررہا ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا: تمام پیشین گوئیوں کے برعکس ہم اب بھی بعید از قیاس سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست لبنان پر جارحیت کا ارتکاب کرسکتی ہے؛ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر علاقائی سطح پر جنگ کا کوئی منصوبہ نہ ہو تو بعید از قیاس کہ اسرائیل لبنان پر حملہ کرے۔انھوں نے صہیونی ریاست کے مقابلے میں لبنانی قوم اور مزاحمت تحریک کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اخلاقی حوالے سے لبنان کو کمزور ملک قرار دینا درست نہیں ہے کیونکہ لبنان اپنی قوم، مزاحمت تحریک اور فوج کے ہوتے ہوئے ایک طاقتور ملک ہے جو اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور جارحوں کی جارحیت کا جواب دے سکتا ہے اور چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کرسکتا ہے۔

صہیونی ریاست جنگ شروع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیسیدحسن نصراللہ نے کہا: جب تک ایمان ہوگا، بصیرت ہوگی اور "قوم ـ فوج ـ مزاحمت تحریک" کا مثلث ہوگا اسرائیل ہر قسم کی جنگ بپا کرنے سے عاجز ہوگا اور اگر کسی روز اس نے جنگ بپا کردی تو اس کا نتیجہ اس ریاست کی مہم جوئیوں کے ناکام نتائج سے بہتر نہ ہوگا۔ انھوں نے کہا: اگرچہ ہم لبنان کے خلاف اسرائیلی حملے کو بعید از قیاس سمجھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہيں ہے کہ ہم چین کی نیند سوجائیں کیونکہ سونے والے کامیاب نہیں ہوتے اور سونے والی قوم شکست کھاتی ہے۔ میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ مزاحمت تحریک 1982 سے آج تک کبھی بھی آرام سے آنکھیں بند کر چین کی نیند نہیں سوئی اور مسلسل تیاری اور آمادگی کے حصول کے لئے مصروف کار رہی کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ ہمارے پڑوس میں ایک وحشی دشمن بیٹھا ہے جو ہماری غفلت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اسی وجہ سے مزاحمت تحریک 15 اگست 2006 (کو اسرائیلی شکست) سے آج تک چین سے نہیں سوئی اور مسلسل تیاری کررہی ہے۔انھوں نے کہا: صہیونی ریاست بھی 2006 سے لے کر اب تک مسلسل جنگی مشقوں، ہتھیاروں کی فراہمی اور تمرینات میں مصروف رہی ہے تو ایسی صورت میں ہم کیونکر تکئے پر سر رکھ کر سو سکتے ہیں جبکہ ہمارے سامنے ایسا دشمن ہے جو ہرگز نہيں سوتا۔ انھوں نے مایوس ہونے والوں اور مایوس نہ ہونے والوں سے مخاطب ہوکر کہا: جب ہتھیار ہماری قوم اور مزاحمت تحریک سے الگ کروگے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم چاہتے ہو کہ ہم گھاٹا اٹھائیں اور زیاں کار اور ذلیل ہوجائیں اور ہم اپنے تمام تجربات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اپنی قوم کی عزت و حیثیت اور عظمت کو اسرائیل کے سپرد کریں۔ چنانچہ ہم مزاحمت تحریک، فوج اور قومی عزم کے پابند ہیں اور ان عناصر کو لبنان کی طاقت کے لئے بہر قیمت چاہتے ہیں۔

آج لبنانی حکومت دوسروں کی جانب شارٹ میسجز کا انتظار نہیں کیا کرتیسید حسن نصر اللہ نے کہا: آج لبنان کی حکومت تمام ایک متنوع حکومت ہے جس میں تمام اقوام اور تمام گروپوں اور جماعتون کے نمائندے موجود ہیں۔ یہ حکومت بحث و گفتگو کرنے کی قائل ہے مباحثہ کرتی ہے اور خودسرانہ فیصلے نہیں کرتی۔ یہ حکومت مسائل کا جائزہ لیتی ہے اور پھر فیصلہ کرتی ہے یہ وہ حکومت نہيں ہے جس کو امریکہ کی کسی وزارت یا امریکی سفارتخانے کے احکامات کا انتظار ہو۔ آج امریکی حکمران یا اس ملک کے سفارتی اہلکار سیل فون سروس کے ذریعے ایک شارٹ میسج بھیج کر اپنی بات نہیں منواسکتے۔ یہ حکومت آج امریکی کے اشاروں اور کنایوں اور پیغامات پر کام نہیں کرتی بلکہ قومی مفاد کے لئے خودمختار اور مستقل ہوکر کام کرتی ہے۔انھوں نے کہا: آج لبنان کی پوری قوم اس حکومت سے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کا تقاضا کررہی ہے، کہ وہ عدلیہ میں ہزاروں کیسز کا مسئلہ حل کرے، بھاگے ہوئے جاسوسوں کا مسئلہ حل کرے اور ادھر ادھر برپا ہونے والے شور و غوغا کی طرف توجہ نہ کرے اور ہماری بھی حکومت سے یہی خواہش ہے کیونکہ لوگوں کے مسائل اہم ترین ہيں۔ حریری ٹربیونل ناقابل قبول ہےسیدحسن نصر اللہ نے حریری ٹربیونل کی سماعتوں اور بہتان زدہ افراد پر غا‏ئبانہ مقدمات کے بارے میں کہا: میں ان مسائل کے بارے میں اظہار خیال نہيں کرنا چاہتا کیونکہ ہم اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کو غیر قانونی سمجھتے ہيں۔ انھوں نے ٹربیونل کے اخراجات کے بارے میں کہا: بہتر یہی ہوگا کہ اس ٹربیونل کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے کسی اور جانب دیکھیں اور نجیب میقاتی کی حکومت سے اس سلسلے میں کوئی توقع نہ رکھیں۔ انھوں نے کہا: حال ہی میں ایک بین الاقوامی ادارے "یونسکو" نے فلسطینی اتھارٹی کی رکنیت قبول کرلی تو امریکہ نے پیشگی اطلاع کے بغیر ہی اس ادارے کی مالی مدد بند کرنے کا اعلان کردیا حالانکہ یونسکو ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اور امریکہ نے ایک معاہدے کے تحت اس کی مالی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری سنبھالی ہے تو اب امریکہ کو یہ حق کیوں حاصل ہے کہ اپنے بین الاقوامی تعہدات (Commitments) سے روگردانی کرے اور لبنان کو یہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ اس ٹربیونل کے مالی اخراجات برداشت کرنے سے روگردانی کرے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا: حال ہی میں لبنان کے سابق وزیر اعظم اور رکن پارلیمان فؤاد سنیورہ نے ایک راہ حل پیش کی ہے کہ عرب صدور اور بادشاہ اور امراء نیز دوست ممالک یونسکو کی مالی ضروریات پوری کریں اب یہ لوگ ان ہی ممالک سے یہ سے یہ خواہش بھی کرسکتے ہيں کہ حریری ٹربیونل کے اخراجات بھی برداشت کریں۔ ایک عرب امیر اپنے صرف ایک جشن سے چشم پوشی کرکے حریری ٹربیونل کے تمام اخراجات برداشت کرسکتا ہے اور یوں لبنان کا یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔انھوں نے لبنان سے مقبوضہ فلسطین بھاگ کر جانے والے لوگوں کے بارے میں کہا کہ آزاد قومی دھڑے کے ساتھ ہمارے معاہدے کے تحت یہ لوگ وطن واپس آسکتے ہیں اور ہم بھی اپنے عہد پر عمل کریں گے۔ایران کے خلاف جارحیت کا جواب نہایت توڑ کر رکھ دینے والا ہوگاحزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دے کر کہا کہ ایران ایک طاقتور اور متحد ملک ہے جس کی قیادت کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے اور اگر کسی نے جارحیت کی تو اس ملک کا جواب توڑ کر رکھ دینے والا اور کئی گنا زیادہ بڑا ہوگا۔انقلاب اسلامی کے رہبر کا جواب دندان شکن تھاسیدحسن نصر اللہ نے ایرانی افواج اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ملت کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کو دی جانے والی صہیونی دھمکیوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: امام خامنہ ای نے جمعرات کے دن صہیونی ریاست کی دھمکیوں کے مقابلے میں نہایت فیصلہ کن اور مناسب رد عمل ظاہر کیا جو واضح اور شفاف تھا۔انھوں نے کہا: گذشتہ کئی دنوں سے ہم دیکھ رہے تھے کہ دھمکیوں میں مسلسل شدت آرہی ہے اور ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں اچانک سامنے